پانی اور غذا: گرمیوں میں کیا کھائیں اور کیا پئیں؟
پانی کی کمی کا خطرہ
گرمیوں میں جسم پسینے کے ذریعے خود کو ٹھنڈا رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس عمل میں جسم سے بڑی مقدار میں پانی اور نمکیات ضائع ہوتے ہیں۔ اگر یہ کمی پوری نہ کی جائے تو تھکاوٹ، سر درد اور چکر آنے لگتے ہیں۔ پاکستان میں خاص طور پر گرمیوں میں صبح اور شام کے اوقات میں بھی درجہ حرارت 35 ڈگری سے اوپر رہتا ہے۔
روزانہ پانی کی مقدار
ماہرین کے مطابق ایک بالغ شخص کو گرمیوں میں روزانہ کم از کم 3 لیٹر یعنی 10 سے 12 گلاس پانی پینا چاہیے۔ باہر کام کرنے والوں کے لیے یہ مقدار مزید بڑھ جاتی ہے۔ پیاس لگنے کا انتظار نہ کریں کیونکہ جب تک پیاس محسوس ہوتی ہے، جسم پہلے سے پانی کی کمی کا شکار ہو چکا ہوتا ہے۔
مفید مشروبات
پاکستان میں روایتی طور پر کئی ایسے مشروبات استعمال ہوتے ہیں جو گرمی میں مفید سمجھے جاتے ہیں:
- لسی: دہی سے بنا ہوا یہ مشروب پنجاب اور سندھ میں انتہائی مقبول ہے۔ نمکین لسی خاص طور پر گرمیوں میں پسند کی جاتی ہے۔
- لیموں پانی: نمک اور چینی ملا لیموں پانی الیکٹرولائٹس کی کمی پوری کرتا ہے۔
- ستو: جو اور چنے کے آٹے سے بنایا جاتا ہے۔ ٹھنڈے پانی میں ملا کر پینا ایک پرانا طریقہ ہے۔
- تخم ملنگا: ٹھنڈے مشروبات میں ملا کر استعمال کیا جاتا ہے۔
- گنے کا رس: سڑکوں پر عام دستیاب ہے اور فوری توانائی فراہم کرتا ہے۔
کن مشروبات سے اجتناب کریں
چائے، کافی اور کیفین والے مشروبات جسم سے پانی خارج کرتے ہیں اور پانی کی کمی بڑھاتے ہیں۔ کاربونیٹڈ (سوڈا) مشروبات میں شکر کی زیادہ مقدار ہوتی ہے جو پیاس بجھانے کی بجائے بڑھاتی ہے۔ انتہائی ٹھنڈا پانی بھی فوری طور پر پینے سے اجتناب بہتر ہے۔
غذا میں تبدیلیاں
گرمیوں میں بھوک قدرتی طور پر کم ہو جاتی ہے کیونکہ جسم خوراک ہضم کرنے میں حرارت پیدا کرتا ہے۔ اس لیے ہلکی، آسانی سے ہضم ہونے والی غذائیں بہتر ہیں:
موسمی پھل اور سبزیاں
تربوز، خربوزہ اور آم پاکستان کے گرمیوں کے خاص پھل ہیں۔ تربوز میں 92 فیصد پانی ہوتا ہے جو جسم کو ہائیڈریٹ رکھتا ہے۔ کھیرا، ٹماٹر اور پیاز کا سلاد گرمیوں میں ہر کھانے کا حصہ ہونا چاہیے۔
دہی اور رائتہ
دہی ایک قدرتی پروبائیوٹک ہے جو ہاضمے میں مدد کرتا ہے۔ گرمیوں میں دہی کا رائتہ، بونڈی رائتہ یا کھیرے کا رائتہ بنانا ایک عمدہ عادت ہے۔
تلی ہوئی اور مسالے دار غذا سے اجتناب
سموسے، پکوڑے، بریانی اور چکنائی والے کھانے ہاضمے پر بوجھ ڈالتے ہیں اور جسم کا درجہ حرارت بڑھاتے ہیں۔ گرمیوں میں ابلی ہوئی، بھنی ہوئی یا تازہ غذائیں بہتر انتخاب ہیں۔
آم: پاکستان کا قومی پھل
پاکستان دنیا کا چوتھا بڑا آم پیدا کرنے والا ملک ہے۔ سندھی اور پنجابی آم کی اقسام جون سے اگست تک دستیاب ہوتی ہیں۔ آم میں وٹامن اے، سی اور پوٹاشیم پائے جاتے ہیں۔ البتہ ذیابیطس کے مریضوں کو مقدار کا خیال رکھنا چاہیے۔
اخلاقی بیان: اس مضمون میں دی گئی معلومات عمومی آگاہی کے لیے ہیں۔ یہ طبی مشورہ نہیں ہے۔ غذائی تبدیلیوں سے پہلے اپنے معالج سے مشورہ کریں۔
آخری تازہ کاری: 6 اپریل 2026 | ماخذ: WHO, NDMA, Jang News