جب درجہ حرارت 45 ڈگری سے تجاوز کرنے لگے تو آرام، غذا، نیند اور روزانہ کے معمولات کو از سر نو ترتیب دینا ضروری ہو جاتا ہے۔ یہ معلوماتی مواد انہی پہلوؤں پر مبنی ہے۔
آخری تازہ کاری: اپریل 2026گرمی کے موسم سے متعلق تفصیلی رہنمائی اور عملی معلومات

شدید گرمی کا اثر نہ صرف جسمانی سرگرمیوں پر پڑتا ہے بلکہ نیند، خوراک اور کام کے اوقات پر بھی مرتب ہوتا ہے۔ اس مضمون میں ان تبدیلیوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں ←
گرمیوں میں جسم کو پانی کی کمی کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔ کون سے مشروبات فائدہ مند ہیں اور خوراک میں کیا تبدیلیاں کرنی چاہئیں؟
مزید پڑھیں ←
سخت گرمی میں صبح سویرے اور شام کے اوقات سب سے اہم ہو جاتے ہیں۔ ایک متوازن دن کا شیڈول بنانے کے عملی طریقے۔
مزید پڑھیں ←
پاکستان میں مئی سے ستمبر تک درجہ حرارت اکثر 40 سے 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے۔ اندرونی سندھ اور جنوبی پنجاب میں یہ صورتحال خاص طور پر شدید ہوتی ہے۔
گرم موسم میں اپنے روزمرہ معمولات کو مستحکم رکھنے کے آسان طریقے
فجر کے بعد سے صبح 9 بجے تک کا وقت باہری کاموں کے لیے سب سے موزوں ہے۔ اس وقت درجہ حرارت نسبتاً کم ہوتا ہے۔
روزانہ کم از کم 10 سے 12 گلاس پانی، لسی یا لیموں پانی پینا مفید ہے۔ کیفین والے مشروبات سے اجتناب بہتر ہے۔
تربوز، خربوزہ، کھیرا، دہی اور سلاد جیسی ہلکی غذائیں گرمی میں ہاضمے پر بوجھ نہیں ڈالتیں۔
12 بجے سے 4 بجے تک ٹھنڈی جگہ پر رہنا اور سخت محنت سے اجتناب کرنا ایک پرانی اور مفید عادت ہے۔
سوتی، ہلکے رنگ کے اور ڈھیلے کپڑے جسم کو ٹھنڈا رکھنے میں مددگار ہوتے ہیں۔ گہرے رنگ سورج کی حرارت جذب کرتے ہیں۔
سورج ڈھلنے کے بعد مغرب کے وقت قریبی پارک یا کھلی جگہ پر چہل قدمی کرنا ذہنی اور جسمانی طور پر فائدہ مند ہے۔
پاکستان میں 2025 میں جیکب آباد میں درجہ حرارت 52 ڈگری سینٹی گریڈ تک ریکارڈ کیا گیا، جو جنوبی ایشیا میں ریکارڈ کیا گیا بلند ترین درجہ حرارت تھا۔ ایسے حالات میں روزمرہ عادات کو ڈھالنا محض انتخاب نہیں بلکہ ضرورت بن جاتا ہے۔
ماخذ: NDMA Pakistan، PMD
گرمیوں میں گھر کو ٹھنڈا رکھنا بجلی کی دستیابی سے جڑا ہوا ہے۔ لیکن بجلی کے بغیر بھی کئی طریقے موجود ہیں جو گھر کے اندر درجہ حرارت کم رکھ سکتے ہیں:
گرمی کے موسم میں عادات کو بدلنا کمزوری نہیں بلکہ سمجھداری ہے۔ جو لوگ اپنے معمولات کو موسم کے مطابق ڈھالتے ہیں وہ زیادہ متوازن رہتے ہیں۔
- ماہر ماحولیات، جامعہ پنجاب لاہورآخری تازہ کاری: 6 اپریل 2026 | مواد کی تصدیق: ادارتی ٹیم | ماخذ: NDMA، PMD، Dawn News